مسرور ا حمد مسرور
مغل بادشاہ شاہجہان نے اپنی بیوی ممتاز محل سے اپنی محبت کی نشانی کے طور پر تاج محل تعمیر کروایا تھا جسے دنیا کے سات عجوبوں میں شامل کیا گیا، جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں لوگ آگرہ آتے ہیں اور محبت کی اس لازوال یادگار کے سامنے تصویر اتروانا نہیں بھولتے۔ البتہ آگرہ کے تاج محل کو سامنے رکھتے ہوئے شاہجہان بادشاہ کے بیٹے مغل بادشاہ اورنگزیب نے اورنگ آباد میں اپنی پہلی بیوی دل رس بانو بیگم جنھیں رابعہ درانی کے نام سے بھی پہچانا جاتا تھا کی یاد میں اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک اور تاج محل تعمیر کروایا جسے Mini تاج محل کہا جاتا ہے اس کے علاوہ رابعہ درانی کے اس مقبرے کو بی بی کا مقبرہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مقبرہ مغل تعمیرات کا ایک ایسا نمونہ ہے جو تاج محل کے مقابلے میں تعمیر کروایا گیا اور حقیقت یہ ہے کہ Mini تاج محل آگرہ کے تاج محل سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے لیکن اس تاج محل میں ماہر تعمیرات اصل تاج محل والی جادوئی شان پیدا نہ کرسکا یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آگرہ کے تاج محل کا اصل ڈیزائنر استاد احمد لاہوری تھا جبکہ Mini تاج محل کی ڈیزائننگ ان کے بیٹے عطا اللہ نے کی تھی۔
سترہویں صدی کے آخر میں تعمیر کی گئی اس عمارت جسے Mini تاج محل کا نام دیا گیا کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ مقبرہ اورنگزیب کے بیٹے پرنس اعظم شاہ نے اپنی ماں کی یاد میں بنوایا تھا۔
اس Mini تاج محل کا آگرہ کے تاج محل سے تو مقابلہ نہیں کیا جاسکتا لیکن بی بی کے مقبرے کا اپنا ایک الگ تعمیراتی حسن ہے جو دیکھنے والوں کو متاثرکر تاہے اور وہ اسے ایک قابل تعریف کوشش قرار دیتے ہیں۔ رابعہ درانی کے اس مقبرے کو دکنی تاج یا تاج آف دکن بھی کہتے ہیں اس مقبرے کے آس پاس باغات، بارہ دریاں بالکل اسی طرح بنائی گئی ہیں جیساکہ تاج محل کے اطراف میں موجود ہیں۔
آگرہ کے تاج محل اور اورنگ آباد کے Mini تاج محل کی تعمیرات میں بہت زیادہ فرق ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شاہجہان بادشاہ نے تاج محل کی تعمیر کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے تھے اور کروڑوں روپے کی لاگت سے عظیم الشان تاج محل مکمل ہوا جبکہ اورنگزیب نے اپنی بیوی کی یاد میں بنائے جانے والے مقبرے کے لیے صرف سات لاکھ روپے مختص کیے تھے اس طرح Mini تاج محل پر جو لاگت آئی وہ تھی 668,203.7 (چھ لاکھ اڑسٹھ ہزار دو سو تین روپے اور سات آنے)
بی بی کے مقبرے کے پاس ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بھی بنوائی گئی، مقبرے کی تعمیر کے لیے جے پور کے قریب واقع کانوں سے پتھر منگوایا گیا، یہ مقبرہ اورنگ آباد سے 5 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس مقبرے کو مغل تعمیرات کی یادگار عمارتوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ تاج محل کو اگر لاکھوں لوگ دیکھنے آتے ہیں تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ Mini تاج محل کو بھی دیکھنے آتے ہیں۔ اور باپ بیٹے کے مابین تعمیراتی مقابلہ آزمائی کے نتیجے میں تعمیر ہونے والی اس شاہکار عمارت جسے بی بی کا مقبرہ یا Mini تاج محل کہا جاتا ہے کی تعریف کیے بغیر نہیں رہتے۔
٭…٭…٭