وردی والے بادشاہ

کاشف بٹ
لاہور پولیس کے اعلیٰ افسران کے دفتروں کا منظر دیکھیں تو لگتا ہے جیسے آپ کسی محل میں داخل ہو گئے ہوں۔ دروازے پر چپراسی کھڑا ہوتا ہے، مگر انداز بادشاہوں والا۔ وہ آپ کو یوں دیکھتا ہے جیسے آپ اس کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے آئے ہیں۔ اگر آپ کہہ دیں کہ "صاحب سے ملاقات کرنی ہے" تو جواب ملتا ہے:صاحب بہت مصروف ہیں، پہلے درخواست لکھ کر لائیں۔"بس یہی رہ گیا ہے کہ ساتھ ٹکٹ لگا کر ڈاک کے ذریعے بھیجنے کا کہا جائے۔صاحب جب کمرے سے باہر نکلتے ہیں تو لگتا ہے جیسے کوئی فلمی ہیرو داخل ہو گیا ہو۔ پیچھے دو کانسٹیبل بادی گارڈز کی طرح، اور سامنے شیشے میں اپنی ٹائی درست کرتے ہوئے افسرِ اعلیٰ۔ عوام یہ منظر دیکھ کر سوچتی ہے کہ پولیس کی نوکری ہے یا کسی بزنس ایمپائر کی سی ای او شپ؟اب کوئی بھولا بھالا شہری اگر پوچھ بیٹھے کہ "جناب یہ سب آپ کی تنخواہ سے کیسے؟" تو جواب ملے گا:" بیٹا یہ محنت کا پھل ہے"۔ہاں! بس یہ الگ بات ہے کہ یہ پھل عوام کی جیب کے درخت سے توڑ کر کھایا جاتا ہے۔کرپشن کے الزام لگتے ہیں، تحقیقات شروع ہوتی ہیں، بڑے زور و شور سے خبر آتی ہے کہ "افسر معطل"۔ عوام خوش ہو جاتی ہے کہ چلو انصاف ہو گیا۔ مگر کچھ ہی دن بعد وہی افسر نئی پوسٹنگ پر نظر آتا ہے۔ جیسے یہ معطلی نہیں بلکہ VIP ریسٹ ہاؤس میں چھٹیاں منانے گیا تھا۔ واقعی کوئی "گدڑ سنگھی" تو ہے ان کے پاس، جس کے بغیر عام آدمی کی تو نوکری کے کاغذ بھی واپس نہیں ملتے۔کہنے کو یہ "عوام کے خادم" ہیں۔ لیکن خادم ایسے کہ اگر آپ ان کے کمرے میں بلا اجازت داخل ہو جائیں تو لگتا ہے جیسے آپ نے بادشاہ سلامت کے تخت شاہی پر حملہ کر دیا ہو۔ دروازے پر کھڑا چپراسی بھی آپ کو ایسے گھورتا ہے جیسے آپ نے اس کی ذاتی ریاست میں قدم رکھ لیا ہو۔اور عوام؟ بیچاری عوام تو سوال کرنے سے پہلے ہی کانپ جاتی ہے۔ پولیس کے سامنے زبان کھولنا ایسا ہی ہے جیسے شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال کر دانت گننے کی کوشش کرنا۔کہنے کو یہ "عوام کے خادم" ہیں، مگر خدمت کا حال یہ ہے کہ خادم عوام کو نہیں، عوام ان کو خادم بننے کے لیے سلامیاں دیتی ہے۔ اصل میں یہ وردی نہیں پہنتے، یہ "تاج شاہی" پہنتے ہیں۔