دوائے دل بیچنے والے ،ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی یادیں

ّٓانتظاراحمد سدید
1955 میں سرگودھا میں پیدا ہونے والیپروفیسر ڈاکٹر  ہارون الرشید تبسم 22 فروری 2026 کو ,رمضان المبارک کے مبارک مہینے میں اللہ کے حضور پیش ہو گئے _مرحوم گوناگوں  خوبیوں کے مالک اور کثیر الجہات شخصیت تھے _آپ ،ادیب ،خطیب، نقیب صحافی، شاعر ،سماجی کارکن ،مذہبی رہنما، محقق، سکالر ،چیف،لکھاری ،قلم کار ،کالم نگار ،مصنف،ریڈیو براڈ کاسٹر  اور بہت کچھ تھے _سرگودھا اور ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم لازم و ملزوم تھے  _وہ دبستان سرگودھا کے ایسے تابناک ستارے تھے  ،جن کی چمک سے ایک عالم نے روشنی پائی _ سرگودھا سے متعلق تمام مذہبی طبقات اور علمی حلقے انھیں  عزتوں سے نوازتے تھے _ ملک بھر میں اقبال شناسی کے حوالے سے ان کی شہرت  قابل تعریف ہے  _انکی ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی، دونوں کے ہاں باریابی تھی  _آپ کی شخصیت کی کئی ایک جہات پر بات ہو سکتی ہے _  اپنی عملی  زندگی  کا آغاز  بطور لیکچرر  کرنے کے بعد ،مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حلقوں میں بھی  ان کی شہرت کی گونج سنی گئی _1992 میں   راقم میٹرک کا طالب علم تھا کہ برادرم خورشید علی توصیف،نے  گورنمنٹ امبالہ مسلم  کالج سرگودھا میں ایف ایس سی کے لیے داخلہ لیا _  ان سے ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے سناشائی ہوئی _یہ وہ زمانہ تھا جب ایم اے کو بطور لاحقہ پڑھے لکھے اپنے نام کے ساتھ لگایا کرتے تھے _آپ اس دور میں ففتھ ایم اے تھے _کچھ دنوں  بعد برادرم سہیل اکبر نے محلہ شیخاں والا بھیرہ میں ایک " محفل حمد و نعت "کا انعقاد کیا اور  ڈاکٹر صاحب کو بطور خاص ، نقیب محفل مدعو کیا _ یہیں  راقم نے ڈاکٹر صاحب کو پہلی بار سنا اور  پروفیسر سید قلب عباس شیرازی کی حویلی میں بالمشافہ ملاقات کی _90 کی دہائی میں آپ ضلع بھر کے علمی ،ادبی ،مذہبی اور سیاسی حلقوں میں یکسر مقبول تھے _صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء￿  الحق،وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف،وزیراعظم پاکستان ، محترمہ بے نظیر بھٹواور صدر پاکستان  جنرل پرویز مشرف جب بھی سرگودھا تشریف لائے ڈاکٹر صاحب ہی نے ان کے جلسوں میں  سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے  _پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ،زمانہ طالب علمی  سے ہی اپنا تعلق "علم و ادب" سے استوار کر چکے تھے _آپ نے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1 سرگودھا سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویڑن سے  پاس کیا _1969 میں  گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 سرگودھا کے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات میں انھوں نے  نو انعامات حاصل کیے _ گورنمنٹ کالج سرگودھا میں سیکرٹری و صدر ینگ سپیکر یونین، نائب صدر بزم ادب، ناظم اطلاعات پنجابی ادبی سنگت، ڈپٹی سیکرٹری سٹوڈنٹس یونین کے  بھی کام کیا _ آپ نے 1972 میں تقریروں کے" کل پاکستان بین الکلیاتی مقابلہ جات" میں سلور گولڈ میڈل اور ٹرافیوں کے علاوہ انفرادی انعامات بھی حاصل کیے _پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے  پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے سیاسیات ، ایم اے اسلامیات  ،ایم اے تاریخ  اور ایم اے اردو کا امتحان  بطور پرائیویٹ طالب علم  پاس کیا _آپ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام اباد سے 1993 میں "اقبال بحیثیت ادبی نقاد "تحقیقی مقالہ لکھ کرایم فل  اقبالیات کی ڈگری، جب کہ 2002 میں "ابراہیم جیلس، حیات وادبی خدمات"تحقیقی مقالہ لکھ کر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی _اپ کا تقرر  بطور اردو لیکچرر   1981 میں گورنمنٹ کالج جوہر آباد میں ہوا _ ایک ماہ بعد آپ اپنے شہر سرگودھا کے مشہور تعلیمی ادارے گورنمنٹ امبالہ مسلم کالج میں تشریف لے ائے _ جہاں سے آپ تین دھائیوں سے زائد، ایک لمبا عرصے تک  تدریسی خدمات سرانجام دینے کے بعد  2015 میں 20ویں گریڈ کے فل پروفیسر کی حثیت  سے   ریٹائیرڈ  ہوئے  _دوران تدریس آپ  بہترین منتظم کے طور پر اساتذہ و طلباء￿  میں مقبول ہوئے _آپ  کالج میگزین "جادہ پیما"کے  مدیر ، سکیورٹی معاملات کے انچارج ، اساتذہ، والدین ایسوسی ایشن کے سیکٹری، اور انسداد منشیات کمیٹی گورنمنٹ امبالہ مسلم کالج سرگودھا کے سیکرٹری بھی رہے _اس کے  علاوہ "جانباز فورس" سرگودھا سے 16 مارچ 1974 سے 2 اکتوبر  2005 تک آپ کی  وابستگی رہی _یہاں آپ نے 1995 سے دو اکتوبر 2005 تک بطور  میجر خدمات سرانجام دیں _ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے  " تنظیم شہری دفاع سرگودھا" سے  وابستگی قائم رکھی _ بطور "چیف وارڈن "سول ڈیفنس سرگودھا بھی آپ خدمات قابل تعریف ہیں  _اس کے علاوہ بطور صدر "بزم علم و فن" سرگودھا، رابطہ کار "بزم علم و فن انٹرنیشنل "اسلام اباد، صدر" بزم ترقی علم و ادب" سرگودہا ، سیکرٹری ،"دیدور اکیڈمی" نائب صدر ،"سیرت اکیڈمی"  سیکرٹری "موتمر عالم اسلامی" سرگودھا، نائب صدر "سرگودھا رائٹر کلب" سرپرست ،"تحریک دعوت، فکر و عمل" رکن "اقبال اکیڈمی لاہور" چیئرمین "پاکستان لٹریری کونسل" سرگودھا چیئرمین "پاکستان ادب اکیڈمی" سرگودہا، صدر" بساط ادب" سرگودہا اور ناظم اعلی " انجمن ترقی اردو" سرگودھا ،ایسے قابل فخر عہدوں پر بھی آپ فائض رہے _
اپ نے بطور" کمپیئر " سرگودھا میں مرکزی جشن ازادی کی تقریبات، ہلال استقلال کی تقریبات، محافل حمد و نعت ،تعلیمی اداروں ,سماجی تنظیموں اور سرگودھا  انتظامیہ کی تمام تقریبات میں بھی کام کیا  _ انھوں نے  ریڈیو پاکستان لاہور، راولپنڈی  اور فیصل اباد میں 1980 سے درجنوں پروگرامز میں شرکت کی _ 2005 سے تاوفات  آپ "دانش کدہ" ریڈیو پاکستان سرگودھا کے میزبان رہے ہیں  _اس طرح پی ٹی وی میں, دلدار بھٹی کے پروگرام" جواں فکر "نعیم بخاری کے  "جہان نما" "پرکھ "  ،سٹوڈیو" جہاں تازہ" " پنجند " "انگن انگن تارے"  شوکت زین العابدین کے "ملاقات "طلعت حسین کے "سویرے سویرے" طارق عزیز کے" طارق عزیز شو" عباس تابش کے "سوچ بچار" وصی شاہ کے " روشن پاکستان ،سلام پاکستان "پروگرامز میں  بھرپور شرکت کی _ آپ نے "پی ٹی وی ورلڈ" " ہم نیوز" "دنیا نیوز" " جیو نیوز" " اے ار وائی "ایکسپریس نیوز" سچ ٹی وی چینل" آپ نیوز "اکا دمی ادبیات" کے پروگرامز "روحی ٹی وی "سیون نیوز چینل "سنو ٹی وی چینل" سما ٹی وی" پی ٹی وی نیوز" اور "92 چینل نیوز" کے سینکڑوں پروگرامز میں بطور مہمان شرکت کر کے شاہینوں کے شہر سرگودھا کا نام بلند کیا _تصنیف و تالیف ، ڈاکٹر  ہارون الرشید تبسم کا خاص میدان تھا  _ آپ نے 200 سے زائد کتب لکھ کر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے _جن میں 50 سے زائد کتب علامہ اقبال کی فکر وفن پر ہیں _گزشتہ سے پوستہ سال آپ "ختم نبوت سیمینار" بھیرہ  تشریف لائے،جہاں راقم کے ساتھ بھیرہ کے تاریخی مقامات اور جامعہ مسجد شیر شاہی بگویہ کو دیکھا گیا _کچھ ہی دنوں بعد سرگودھا میں جناب جبار مرزا کی صدارت میں" ختم نبوت سیمینار "ہوا راقم نے بھی اس میں شرکت کی _آپ برادر اکرام اللہ سلیمی اور جبار مرزا کی معیت میں ہمیں اپنی اکادمی  لے گئے _جہاں  راقم پر علمی نوازشات  کی بھر مار کی _یہ ان سے ہماری اخری ملاقات تھی  _راقم  کو جب بھی کسی نادر کتاب کی ضرورت پڑتی آپ فوار بھیج دیا کرتے تھے _اب سوچتا ہوں اپ کے بعد یہ شفقتیں ہم پے کون نچھاور کرے گا _آپ کے پڑوسی، سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایلیمنٹری سرگودھا سیداحتشام الحق ہمدانی  سے آپ کی نماز جنازہ کے بعد ایک سوگوار نشست ہوئی جہاں آپ کی زندگی کے کچھ ایسے گوشے  بے نقاب ہوئے، جنہیں سن کر حیرت اور رشک ،کا احساس ہوا _ آپ صبح اڑھائی بجے بیدار ہو جایا کرتے تھے _ تہجد گزار تھے ،فجر کی نماز  کے فورا بعد  علمی کاموں  میں مشغول ہو جاتے _ ان کا  بڑا وصف وقت کی پابندی اور پاکستان سے محبت تھی _اپنی ہر گفتگو کے اخر میں "پاکستان زندہ باد" کا نعرہ ضرور لگایا کرتے تھے _رہے نام اللہ کا ،موت سے کس کو انکار ہے ،اسے سب کو آنا ہے _آج وہ گئے ،کل ہماری باری ہے _  ڈاکٹر پروفیسر ہارون الرشید تبسم جیسی شخصیات یقینا صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں _آج شاہینوں کے شہر سرگودھا کا باسی ان کی جدائی میں سوگوار ہے  اور ہم ان کے برابر شریک ہیں _