پنجاب کے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کو الگ ادارے کا درجہ ملے گا

پنجاب کے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کو الگ ادارے کا درجہ ملے گا

لاہور: پنجاب کے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال "نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ" کو اب ایک خودمختار ادارے کی قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے زیر انتظام تیار کیے گئے "نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ ایکٹ 2025" کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

اہم تبدیلیاں اور انتظامی ڈھانچہ
ہسپتال اب ایک 13 رکنی بورڈ آف گورنرز کے ذریعے چلایا جائے گا۔بورڈ میں چئیرمین، ڈین، ہسپتال ایڈمنسٹریٹر، ہسپتال ڈائریکٹر، ڈائریکٹر نرسنگ اور ڈائریکٹر فنانس شامل ہوں گے۔ادارہ اب براہ راست عطیات وصول کر سکے گا اور مالی معاملات میں زیادہ لچکدار ہوگا۔
مریضوں کے لیے علاج کے نئے طریقے
ہسپتال میں کینسر کے مریضوں کا علاج تین طریقوں سے کیا جائے گا:

مفت علاج (غریب اور ضرورت مند مریضوں کے لیے)
شیئرڈ علاج (جزوی ادائیگی کے ساتھ)
مکمل ادائیگی پر علاج (جو مریض پورا علاج خود ادا کرنا چاہیں)
ملازمین کا درجہ
ہسپتال کے ملازمین کو سرکاری ملازم کا درجہ نہیں دیا جائے گا، بلکہ وہ ادارے کے اپنے قواعد کے تحت کام کریں گے۔اس اقدام سے انتظامی خودمختاری میں اضافہ ہوگا اور عملے کی بھرتیاں ادارے کی اپنی پالیسیوں کے مطابق ہوں گی۔
مقاصد اور مستقبل کے منصوبے
یہ اقدام پنجاب میں کینسر کے علاج کو جدید اور قابل رساں بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہسپتال کو تحقیقی اور علاج کے شعبے میں جدید سہولیات سے لیس کیا جائے گا تاکہ مریضوں کو عالمی معیار کی طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔اس تبدیلی کے بعد، نواز شریف کینسر ہسپتال نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں کینسر کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔