پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیسرے دن بھی مندی، سرمایہ کاروں کے 31 ارب روپے ضائع

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیسرے دن بھی مندی، سرمایہ کاروں کے 31 ارب روپے ضائع

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج مسلسل تیسرے دن مندی کا رجحان رہا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے مزید 31 ارب روپے ضائع ہوگئے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجوہات میں مالیاتی نتائج کی توقعات کے برعکس آمدنی، رول اوور ویک کی وجہ سے بھاری مالیت کی لیوریج پوزیشنز، اور فرٹیلائزر سیکٹر میں فروخت کا رحجان شامل ہیں۔ ان عوامل کے باعث بدھ کے روز انڈیکس 1 لاکھ 11 ہزار پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔اس دوران، 55.13 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو آئی، جس سے سرمایہ کاروں کے 31 ارب 96 کروڑ روپے ڈوب گئے۔ تاہم، کاروباری دورانیے میں پیٹرولیم سیکٹر کی کچھ کمپنیوں میں خریداری سرگرمیاں بڑھیں، جس سے ایک موقع پر 540 پوائنٹس کی تیزی دیکھنے کو ملی، لیکن فرٹیلائزر، آئی ٹی، اور آٹوموٹیو سیکٹر میں حصص کی فروخت نے تیزی کو برقرار نہیں رہنے دیا اور مارکیٹ ایک موقع پر 873 پوائنٹس تک نیچے چلی گئی۔آخر کار، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 543 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 111487.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔

 اسی طرح، کے ایس ای 30 انڈیکس 201.46 پوائنٹس، کے ایس ای آل شئیر انڈیکس 160.57 پوائنٹس، اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 338.44 پوائنٹس نیچے بند ہوئے۔مارکیٹ میں کاروباری حجم میں منگل کی نسبت 13.24 فیصد کمی آئی اور مجموعی طور پر 44 کروڑ 92 لاکھ 44 ہزار 755 حصص کے سودے ہوئے۔ اس دوران 448 کمپنیوں کے حصص کی تجارت کی گئی، جن میں 138 کے داموں میں اضافہ، 247 کے داموں میں کمی، اور 63 کے داموں میں استحکام رہا۔جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، ان میں رفحان میظ کے حصص 100.01 روپے بڑھ کر 9400 روپے، اور یونی لیور پاکستان فوڈز کے حصص 48.08 روپے بڑھ کر 2951.92 روپے ہوگئے۔ دوسری طرف، ہوئسٹ پاکستان کے حصص کی قیمت 47.96 روپے کم ہو کر 1850 روپے اور اسماعیل انڈسٹریز کے حصص کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے کو ملی۔