لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی فل بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انٹراپارٹی الیکشن کی چھان بین کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اختیارات کے خلاف دائر درخواست پر دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت کے فیصلے کی تفصیلات
فل بینچ نے الیکشن کمیشن کو اپنے اختیارات کے بارے میں وضاحت کے لیے مہلت فراہم کی ہے، اور وفاقی حکومت کو بھی تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
درخواست گزار بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دی گئی۔
کیس کی آئندہ سماعت
عدالت عالیہ کا فل بینچ اس درخواست کی مزید سماعت 13 دسمبر کو کرے گا، جس میں انٹراپارٹی الیکشن کی چھان بین سے متعلق قانونی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ درخواست پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت اور اس کے اندرونی انتخابات پر اٹھائے گئے سوالات سے متعلق ہے، جس کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے۔
پس منظر
یہ معاملہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن کے طریقہ کار اور ان پر الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال کے قانونی دائرہ کار سے متعلق ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات کی وضاحت ضروری ہے تاکہ کسی بھی آئینی تنازعے سے بچا جا سکے۔