نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، لیاقت بلوچ نے حالیہ بیان میں تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی انتشار کو اسٹیبلشمنٹ کی طاقت قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیبلشمنٹ فیڈریشن کو ون یونٹ نظام میں تبدیل کرنے سے باز رہے، کیونکہ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے .لیاقت بلوچ نے تجویز دی کہ قومی جمہوری جماعتیں متناسب نمائندگی کے طرزِ انتخاب پر اتفاق کر لیں تاکہ حقیقی جمہوری اقدار کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ غیرجانبدارانہ انتخاب کا مستقبل 2024 کے انتخابات کے فارم 45 میں پوشیدہ ہے ۔
علاوہ ازیں، لیاقت بلوچ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ زراعت اور کسانوں کے ساتھ مجرمانہ لاپروائی بند کرے ۔فلسطین سے یکجہتی کے حوالے سے، لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کو کوئی حق نہیں کہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی مارچ کو روکے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا فلسطین سے اظہار یکجہتی مارچ پر امن ہوگا، حکومت رکاوٹیں کھڑی کر کے پوری دنیا میں رسوا نہ ہو ۔