گزرا ہوا سال 2025 پاکستان کے لیے نہایت اہم اور فیصلہ کن رہا، جس میں جغرافیائی سیاست میں بڑی تبدیلیاں، خطے میں کشیدگی اور اندرونی سطح پر متعدد چیلنجز دیکھنے میں آئے۔
پاک امریکہ تعلقات میں بہتری:
سال 2025 میں پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں نمایاں واپسی کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات نے دوطرفہ تعلقات کو گرمجوشی کی جانب موڑ دیا۔ مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فضائی جنگ کے دوران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، جس کے بعد صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔معاشی میدان میں 50 کروڑ ڈالر کے معاہدے، بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ، چین کے ساتھ 8.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور جے35 جنگی طیاروں کا معاہدہ، روس سے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور آذربائیجان کے ساتھ جے ایف-17 طیاروں کے معاہدے نے پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط کی۔
پاک بھارت جنگ:
مئی 2025 میں بھارت کے حملوں کے بعد "آپریشن سندور" کے تحت مسلح تصادم ہوا۔ پاکستانی فضائیہ نے جدید طیاروں اور میزائلوں کی مدد سے بھارتی طیارے اور ڈرونز مار گرائے، جس سے بھارت کی پیش قدمی محدود ہوئی اور 10 مئی کو جنگ بندی ہوئی۔
دہشت گردی اور داخلی سلامتی:
سال 2025 گزشتہ ایک دہائی میں سب سے خونریز ثابت ہوا، جہاں دہشت گردی کے واقعات میں 3,300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں 2,100 دہشت گرد، 664 سیکیورٹی اہلکار اور 580 عام شہری شامل ہیں۔ بلوچستان کی شورش، کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیاں اور بم دھماکوں نے داخلی صورتحال کو سنگین بنایا۔
قدرتی آفات اور سیلاب:
جون سے ستمبر تک شدید سیلابوں نے ملک کے پانچ صوبوں کو متاثر کیا، جس سے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک، زراعت اور صنعت کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔
معاشی پیش رفت:
پاکستان کی شرح نمو 2.6 فیصد رہی۔ ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں ریٹیل ڈیجیٹل ادائیگیاں 592 ارب ڈالر تک پہنچیں، معدنیات اور بیجوں کے شعبے میں اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری نے مثبت اشارے دیے۔
پی آئی اے کی نجکاری:
اپریل 2025 میں پی آئی اے نئی ملکیت میں منتقل ہوئی، جس کے بعد برطانیہ کے لیے پروازیں بحال ہوئیں، اور ہوا بازی کے شعبے میں اصلاحات آگے بڑھیں۔
کھیلوں میں کامیابیاں:
پاکستان نے 1996 کے بعد پہلی مرتبہ آئی سی سی کا بڑا ایونٹ میزبانی کیا، بھارت کے خلاف سیریز 6-0 جیتی، لاہور قلندرز نے تیسری مرتبہ پی ایس ایل ٹائٹل حاصل کیا، اور بابر اعظم کی 32ویں سنچری بھی نمایاں رہی۔ انڈر 19 اور ایمرجنگ ٹیموں نے دونوں ایشیا کپ جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔